DR Price & Partners: Information for International Students.

قومی خدمتِ صحت کو کیسے استعمال کرنا ہے

آپ کوجتنا جلد ممکن ہو سکے، ایک فیملی ڈاکٹر (جسے جنرل پریکٹیشنر یا جی پی (GP) بھی کہا جا تا ہے) کے پاس اندراج کروانا ہو گا۔ آپ اپنے ڈاکٹر کی سرجری (یعنی ’کلینک‘) میں دانتوں کے مسائل کےعلاوہ صحت کے تمام معاملات کے لیے کسی سے مل سکتے ہیں (دانتوں کے مسائل کے لیے ایک ڈینٹسٹ کے پاس جانا ہوگا)۔ اگر مناسب ہوا تو آپ کا GP آپ کے لیے ہسپتال میں اسپیشلسٹ (یعنی مخصوص امراض کے ماہر) ڈاکٹروں سےملاقات کا بندوبست بھی کر سکتا ہے۔ آپ پہلے GP سے ملے بغیر کسی اسپیشلسٹ سے ملاقات نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کا GP آپ کو نسخہ میں کوئی دوا تجویز کرتا ہے تو اس دوا کے لیے آپ کو ادائیگی کرنا ہو گی۔

جب سرجری معمول کے اوقات کارکے بعد بند ہو جائے (یعنی، سوموار/پیر سے لیکر جمعہ کو 6بجے شام سے8 بجے صبح تک، ہفتہ، اتوار اور سرکاری تعطیلات کو سارا دن) ، تو GP کی غیر از اوقات کار خدمت کو 0845 056 8060 پر فون کریں۔ یہ خدمت فقط ان فوری توجہ طلب طبی مسائل کے لیے ہے جن کے علاج کے لیے سرجری کے معمول کے اوقات کار کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

اگر آپ اپنی صحت کے بارے میں مشورہ، یا اس بارے میں مشورہ کرنا چاہتے ہیں کہ آپکو کہاں جانا چاہیے، تو آپ NHS ڈائریکٹ کو 0845 46 47 پر فون کر سکتے ہیں یا ان کی ویب سائٹ www.nhsdirect.co.uk ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اس خدمت (service) کا عملہ نرسوں اور پیشہ ور مشیروں پر مشتمل ہے جو آپ یا آپ کے خاندان کے کسی رکن کے بیمار پڑنے کی صورت میں اقدامات کے بارے میں، صحت کے خصوصی عارضوں یا مقامی خدماتِ صحت یا ’اپنی مدد آپ‘ اور امدادی تنظیموں کے محلِ وقوع کے بارے میں رازدارانہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے خاندان میں سے کوئی سخت بیمار ہو اور ایمرجنسی (’فوری ہنگامی‘) علاج کی ضرورت ہو، تو آپ کو یا تو مقامی ہسپتال کے شعبہ A & E (کیژویلٹی ڈیپارٹمنٹ یعنی شعبہ حادثات) سے رجوع کرنا چاہئے یا 999 پر فون کر کے ایک ایمرجنسی ایمبولینس کو طلب کرنا چاہیئے۔ اگر آپ صورتحال کے ایمرجنسی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں مذبذب ہوں، تو آپ مشورے کے لیے پہلے NHS ڈائریکٹ کو فون کر سکتے ہیں۔

معمولی چوٹوں کے لیے پورے کیمپس میں ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے والے کارکن دستیاب ہیں۔

دواؤں کی الماری

معمولی بیماریاں عام ہیں اور علامات اکثر اس وقت شروع ہوتی ہیں جب فارمیسیاں (’دوا خانے‘) بند ہو چکی ہوتی ہیں۔ یہ چند تجاویز ان کبھی کبھار استعمال کی دواؤں کے لیے ہیں جنہیں (پہلے سے) گھر پر رکھنا مفید ہے۔ یہ سب دوائیں نسخے کے بغیر دستیاب ہیں اور کئی ایک قریبی سپر مارکیٹ سے مل سکتی ہیں، تاہم کچھ ادویات فقط آپ کی فارمیسی سے دستیاب ہوں گی جہاں پر یہ بغیر نسخے کے خود شیلف سے اٹھا کر خریدی جا سکتی ہیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ ہر دوا پر موجود مقررہ خوارک سے متعلق ہدایات پر بہت احتیاط سےعمل کریں۔ آپ کا فارماسِسٹ (’فارمیسی میں موجود دواساز‘) معمولی بیماریوں اور موزوں دواؤں کے بارے میں مشورے اور معلومات کا ایک مفید ذریعہ ہے۔

چند بڑی مقامی سپر مارکیٹوں میں دیر تک کھلی رہنے والی فارمیسیاں ہوتی ہیں۔ براہ مہربانی یاد رکھیں کہ ان ادویات کو ایک ڈاکٹر کے نسخے کے ذریعے حاصل کرنے کی نسبت فارمیسیوں سے خریدنا سستا ہوتا ہے۔

درد سے نجات کے لیے مختلف اقسام کی دوائیاں موجود ہیں۔ ان میں سے کسی بھی دوا کے استعمال سے درد ہلکا ہو جاتا ہے اور بڑھا ہوا درجۂ حرارت (’بخار‘) کم ہو جاتا ہے۔ پیراسیٹامول بالغوں اور بڑے بچوں کے لیے گولیوں اور قابل تحلیل شکل اور چھوٹے بچوں کے لیے سیّال (’سیرپ‘) کی شکل میں دستیاب ہے۔ اگر آپ کے چھوٹے بچے ہیں، تو پیرا سیٹا مول ہر وقت پاس رکھنے کے لیے غالباًً سب سے اہم دوا ہے۔ اسپرین – گولیوں اور قابل تحلیل صورتوں میں ملتی ہے۔ گلے میں درد کے لیے قابل تحلیل اسپرین کے ساتھ غراروں کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ سوجن کو بھی کم کرتی ہے اس لیے یہ عضلات (یعنی پٹھوں) کی ٹیسوں اور دردوں کو کم کرنے میں مفید ہو سکتی ہے۔ ضمنی اثرات (’سائیڈ ایفیکٹس‘) پیراسیٹامول کی نسبت اسپرین میں زیادہ عام ہیں۔ خصوصا ً اگر آپ کو چھوٹی آنت یا معدے کا السر ہو تو آپ کو اسپرین نہیں لینا چاہئے۔ اسپرین سے دمے میں مبتلا بعض افراد کے سانس کی علامات مزید بگڑ سکتی ہیں۔ 16 سال سے کم عمر بچوں کو اسپرین نہ دیں۔ دافع سوجن درد کش ادویات – مثلاً ibuprofen – بھی ایسی درد کش ادویات ہیں جو سوجن کو کم کرتی ہیں لیکن اسپرین کی نسبت قدرے تیز ہوتی ہیں۔ یہ بالغوں اور بڑے بچوں کے لیے گولیوں اور چھوٹے بچوں کے لیے سیّال (’سیرپ‘) کی صورت میں دستیاب ہیں۔ یہ عضلات (’پٹھوں‘) کے دردوں اورموچوں میں مفید ہوتی ہیں اور اکثر ماہانہ ایّام کے درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اسپرین کی طرح ان کو السر ہونے کی صورت میں استعمال نہیں کرنا چاہیئے اور اگر آپ کو دمہ ہو تو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیئے۔

اینٹی ہسٹامینز (Antihistamines) – تپِ کاہی (Hay fever) اور دیگر الرجیوں (مثلاً کھجلی، چھینکیں، آنکھوں سے پانی آنا، ناک بہنا اور چھپاکی (Hives) کی علامات کو کم کرتی ہیں۔ چند اینٹی ہسٹامینز (مثلاً پری ٹان Piriton)) غنودگی طاری کر سکتی ہے- انہیں سونے کے وقت لینا مفید ہو سکتا ہے۔ کئی اقسام ایسی ہیں جو کم غنودگی پیدا کرتی ہیں اور دن کے دوران لینے کے لیے بہتر ہیں۔ اینٹی ہسٹامین کریمیں کیڑوں کے کاٹنے اور ڈنکوں کے اثرات سے نجات حاصل کرنے کے لیے مفید ہوتی ہیں

۔

تیزابیت دور کرنے والی (ترشہ توڑ) ادویات (Antacids) – بد ہضمی اور معدے کی جلن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اورمختلف شکلوں اور طاقتوں میں دستیاب ہیں مثلاً رینی (Rennie)، گیوِسکون (Gaviscon)۔ ہمیشہ (دوا پر موجود معلومات کے) لیبل کو پڑھیں۔

معمولی زخموں اور رگڑوں کے علاج کے لیے آپ کو مختلف قسم کے پلستر، روئی، اور کچھ جراثیم کش (Antiseptic) کریمیں بھی پاس رکھنی چاہئیں۔

کیمپس میں ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے والے متعدد کارکن موجود ہوتے ہیں جو معمولی زخموں کا علاج کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی کو ڈھونڈنے کے سلسلے میں مذبذب ہوں تو کسی قلی یا معلوماتی ڈیسک سے دریافت کریں۔

ان خدمات کے اخراجات جن کا شمار NHS میں نہیں ہوتا

اگرچہ نیشنل ہیلتھ سروس زیادہ تر افراد کو نگہداشتِ صحت کی زیادہ تر خدمات مفت مہیا کرتی ہے، تاہم چند مستثنیات موجود ہیں۔ چند سفری ویکسینوں اور میڈیکل رپورٹوں کے لیے کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔ فیس والی خدمات کی مکمل فہرست ہیلتھ سنٹر کے استقبالیہ حصے میں دستیاب ہوتی ہے۔

مشورہ برائے سفر

اگر آپ بیرون ملک سفر کا ارادہ کر ر ہے ہوں تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے سفر کے دوران صحت سے متعلق متوقع مسائل کے بارے میں گفتگو کرنے کے لیے ملاقات کا وقت طے کرنے پر غور کریں۔ آپ کے قیام کے دوران ممکنہ طور پر درکار کئی ویکسینوں کو مؤثر ہونے کے لیے متعدد ہفتوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ نیز چند دافع ملیریا ادویات کو آپ کے سفر سے کافی پہلے شروع کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اس ویب سائٹ کی انگریزی عبارت میں چند مفید ویب سائٹوں کے پتے موجود ہیں۔

NHS کچھ ویکسینیں مفت مہیا نہیں کرتی اور ان کی قیمت لی جائے گی – تفصیلات ہیلتھ سنٹر کے استقبالیہ حصے میں دستیاب ہیں۔

آپ کو کس سے ملنے کی ضرورت ہے (نرس یا ڈاکٹر)؟

آپ کو اکثر ڈاکٹر کی بجائے نرس سے ملنے کے لیے کہا جائے گا، خصوصاً اگر آپ کو صحت کے کسی ایسے مسئلے کے لیے، جس کے لیے آپ نے پہلے کسی سے مشورہ نہ کیا ہو، اپوائنٹمنٹ (ملاقات کا وقت) اسی دن درکار ہو۔ ہمارے پاس معمولی بیماریوں کے لیے اسپیشلسٹ نرسیں موجود ہیں جو معمولی بیماری کا علاج کرنے اور جہاں مناسب ہو، نسخہ تجویز کرنے کی مکمل طور پر اہل ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر کا وقت، صحت کے زیادہ پیچیدہ مسائل اور تحقیق کرنے کے لیے فارغ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اپوائنٹمنٹ (ملاقات کا وقت) کیسے طے کرنا ہے؟

آپ کو نرس یا ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عموماً 10منٹ کے لیے ہوتی ہیں۔ آپ ذاتی طور پر ہیلتھ سنٹر میں جا کر یا ٹیلیفون (721820) پراپوائنٹمنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اپوائنٹمنٹس ایسے افراد کو دی جاتی ہیں جن کو دیکھنا اسی روز ضروری ہوتا ہے۔ اپوائنٹمنٹس ملاقات سے دو ہفتے قبل تک بھی دستیاب ہوتی ہیں – یہ اس سلسلے میں مفید ہوتی ہیں اگر آپ کسی خاص نرس یا ڈاکٹر سے ملنا چاہتے ہوں۔ آپ کو ہمیشہ اپنی اپوائنٹمنٹ کے وقت سے پہلے پہنچنا چاہیئے۔

بد قسمتی سے ایسےمواقع بھی آئیں گےجب آپ کو ڈاکٹر یا نرس سے ملنے کے لیے اپنی اپوائنٹمنٹ کے وقت کے بعد تک انتظار کرنا پڑے گا – ایسا عموماً اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ سے پہلے اپوائنٹمنٹ والے کسی شخص کو اپنے مسئلے کے لیے دس منٹ سے زیادہ وقت درکار تھا یا کسی اشد ضروری کیس کو پہلے دیکھنا لازمی تھا۔ براہ مہربانی ایسے حالات میں صبر کا مظاہرہ کریں۔

اگر آپ اپنی اپوائنٹمنٹ کے لیے 5 منٹ سے زیادہ تاخیر کے ساتھ پہنچیں گے تو آپ کو دوبارہ اپوائنٹمنٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے، کیونکہ آپ کو صحیح طور پر دیکھنے کے لیے آپ کی اپوائنٹمنٹ میں سے حسبِ ضرورت وقت نہیں بچے گا۔

اگر آپ اپنی اپوائنٹمنٹ کے لیے نہیں پہنچ سکتے، تو براہ مہربانی یہ یقینی بنائیں کہ آپ جتنی جلد ہو سکے ہمیں بتا دیں تا کہ ہم وہ وقت کسی اور کو پیش کر سکیں۔

ڈینٹِسٹ کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے

اگر آپ یارک کے علاقے میں NHS کے کسی ڈینٹسٹ کی تلاش میں ہیں، تو پھر آپ کو اپنا نام، پتہ (بشمول پوسٹ کوڈ)، تاریخ پیدائش اور رابطے کا ٹیلیفون نمبر دے کر ڈینٹسٹ کی فہرستِ انتظار میں اپنا اندراج کروانا ہو گا۔ اس کے لیے آپNHS Dental Waiting List, FREEPOST, NEA13107, York, YO31 7ZX پر تحریر کر سکتے ہیں، 01904 724107 پر ٹیلیفون کر سکتے ہیں یا nyy-pct.DentalRegistration@nhs.uk پر ای میل کر سکتے ہیں

۔

جب کوئی وقت دستیاب ہو گا تو ڈینٹل سروس آپ سے خود براہ راست رابطہ کر لے گی۔ http://www.nyypct.nhs.uk/

موسمی مشورہ

ہے فیور/ تپِ کاہی (یا موسمی الرجک رائےنائٹس) گھاس یا ’ہے‘ یعنی بھہوسے کے پولن (زر گل) سے الرجی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ گھاس کا پولن سب سےعام سبب ہے (مئی سے جولائی تک)۔ تاہم یہ اصطلاح بعض اوقات دیگر پولن مثلاً درختوں کے پولن کی وجہ سے پیدا ہونے والے الرجک رد عمل کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے (مارچ سے مئی تک)۔ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب جسم کا مامونی (’حفاظتی‘) نظام پولن کے خلاف رد عمل دکھاتا ہے۔ ناک اور آنکھوں کی سطح کے خلیات پولن کے ساتھ رابطے میں آنے کے بعد ہسٹامین (histamine) اور دیگر کیمیائی مادوں کا اخراج کرتے ہیں، جس کے باعث ناک میں سوجن (رائےنائٹس) اور آنکھوں میں سوجن (آشوب چشم) پیدا ہوتا ہے۔

کون متاثر ہوتا ہے؟

ہے فیور بہت عام ہے، اور اکثر پہلی دفعہ ٹین ایج کے سالوں (یعنی 13 تا 19 سال کی عمر) میں پیدا ہوتا ہے۔ علامات ہر سال ایک (مخصوص) موسم کے لیے دوبارہ نمودار ہوتی ہیں، لیکن کئی صورتوں میں متعدد برس تک ہر (مخصوص) موسم میں علامات نمودار ہونے کے بعد آخر کار یہ مستقل ٹھیک ہو جاتا ہے یا اس میں بہتری پیدا ہو جاتی ہے۔

علامات کیا کیا ہیں ؟

عام علامات میں ناک بہنا اور اس میں کھجلی ہونا، بند ناک، چھینکیں، آنکھوں میں سرخی، کھجلی اور پانی آنا اور گلے میں خارش شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں فقط ناک کی علامات اور بعض صورتوں میں فقط آنکھوں کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

 علامات جو عام نہیں، ان میں قوتِ شامہ (’سونگھنے کی حس‘) کا فقدان، چہرے میں درد، پسینہ اور سردرد شامل ہیں۔  اگر آپ کو پہلے سے دمہ ہو، تو دمے کی علامات مثلاً سانس میں سیٹی کی آواز اور سانس اکھڑنے میں ابتری پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کو دمے کی علامات فقط ہے فیورکے موسم میں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر میں پولن سے بچ کے رہوں تو کیا یہ مددگار ہو گا؟

پولن سے مکمل طور پر بچ کے رہنا ناممکن ہے۔ تاہم اگر آپ ایسا کرنے کی کوشش کریں تو علامات کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ موسم کی پیشن گوئی کے ساتھ اکثر پولن کا شمار بھی دیا جاتا ہے اور اگر پولن کا شمار زیادہ ہو، تو مندرجہ ذیل اقدامات کو آزمانے سے مدد مل سکتی ہے:

 جتنا زیادہ ممکن ہو سکے اندر رہیں، اور کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔  گھاس کاٹنے سے پر ہیز کریں، گھاس کے میدانوں سے دور رہیں اور کیمپنگ کے لیے مت جائیں۔  باہر سے آنے پر غسل کریں اور اپنے بالوں کو دھوئیں۔ جب باہر ہوں تو دھوپ کے wrap around چشمے استعمال کریں جو سب اطراف سے آنکھوں کو ڈھکیں۔  کار کی کھڑکیوں کو بند کر کے رکھیں۔ کار کے ہوا دانوں کے لیے پولن فلٹر خریدنے کے بارے میں غور کریں۔ علاج

اینٹی ہسٹامین (ضدِ ہسٹا مین) کے ناک کے اسپرے کی ایک خوراک سے کھجلی، چھینکوں اور پانی بہنے سے پندرہ منٹ کے لگ بھگ عرصے کے اندر آرام آ جاتا ہے۔ تاہم ناک کی جکڑن کے لیے شاید یہ زیادہ کارگر ثابت نہ ہو۔ اینٹی ہسٹامین دوا، ہسٹامین جو کہ الرجک رد عمل میں شامل ایک کیمیائی مادہ ہے، کے عمل کو روک کر اپنا کام کرتی ہے۔ اسپرے کو ہلکی علامات کے لیے حسبِ ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے، یا علامات کو دور رکھنے کے لیے باقاعدہ طور پراستعمال کیا جا سکتا ہے۔ فارماسِسٹ سے متعدد مختلف برانڈ دستیاب ہوسکتے ہیں۔

منہ کے راستے لی جانے والی اینٹی ہسٹامینز (گولی یا سیال/سیرپ) اسپرے کی متبادل ہیں۔ یہ زیادہ تر علامات سے افاقہ دلاتی ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ ناک کی جکڑن سے نجات دلانے کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں۔ آپ دوا لینے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اس کے اثرات کے آغاز کی توقع کر سکتے ہیں۔ ہلکی علامات کے لیے، جو آتی جاتی رہتی ہیں، دوا کو حسبِ ضرورت لیا جا سکتا ہے، یا، اگر آپ کی علامات زیادہ باقاعدہ ہوں، تو آپ حملے سے بچاؤ کی خاطر باقاعدگی سے دوا لے سکتے ہیں۔

ایک فارماسِسٹ آپ کو ان مختلف اقسام اور برانڈ کی اینٹی ہسٹامینز کے بارے میں مشورہ دے سکتا ہے جو دستیاب ہیں۔ چند پرانی اقسام اچھا کام کرتی ہیں لیکن غنودگی طاری کر سکتی ہیں۔ نسبتاً نئی اقسام کا غنو دگی طاری کرنے کا امکان کم ہوتا ہے

۔

اسٹیرائڈ نوز (ناک کے) اسپرے دستیاب ہیں اور ناک کی تمام علامات (کھجلی، چھینکیں، پانی بہنا اور جکڑن) کو رفع کرنے کے لیے اچھا کام کرتے ہیں ۔ یہ ناک میں سوجن کو کم کر کے کام کرتا ہے۔ اسٹیرائڈ نوز اسپرے آنکھ کی علامات کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ آنکھ کی علامات کم کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے، لیکن کرتا ہے! اسٹیرائڈ اسپرے کو اپنی مکمل تاثیر استوار کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اس لیے پہلی مرتبہ اس کا استعمال شروع کرنے پر آپ کو علامات سے فوری افاقہ حاصل نہیں ہوگا۔ بعض افراد میں اس کو مکمل طور پر مؤثر ہونے کے لیے تین ہفتے یا اس سے زائد لگ سکتے ہیں۔ چنانچہ ثابت قدم ضرور رہیں (اگر آپ جانتے ہوں کہ آپ کو ہے فیور ہو جاتا ہے، تو ہے فیور کا موسم شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس کو لینے کا آغاز کرنا سب سے اچھا ہے)۔

شدید علامات کی صورت میں اسٹیرائڈ نوز اسپرے ایک مؤثر ترین علاج ثابت ہوتا ہے۔ اگر علامات اینٹی ہسٹامینز اور اسٹیرائڈ نوز اسپرے میں سے کسی ایک کو اکیلا لینے سے قابو میں نہ آئیں، تو اسپرے کو اینٹی ہسٹامینز کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آپ کو ہے فیور کے موسم میں علامات کو دور رکھنے کی خاطر اسے ہر روز لینے کی ضرورت ہے۔ تاہم، علامات کے چلے جانے کے بعد، علامات کو دور رکھنے کے لیے اسٹیرائڈ اسپرے کی خوراک کو اکثر ایک ہلکی 'سنبھالنے والی' روزانہ کی خوراک تک کم کیا جا سکتا ہے۔ متعدد برانڈ موجود ہیں، جن کو آپ فارمیسیوں سے خرید سکتے ہیں، یا نسخے کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسٹیرائڈ نوز اسپرے کے ضمنی اثرات یا مسائل شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں ( تفصیلات کے لیے پیکٹ میں موجود ورقچے کو پڑھیں)۔

آئی ڈراپس (’آنکھوں کے لیے قطرے‘) دیگر معالجہ جات کے ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اینٹی ہسٹامین آئی ڈراپس سرعت سے کام کرتے ہیں اس لیے انہیں آنکھوں کی بڑھی ہوئی علامات کی شدت کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو آپ انہیں باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں اور فارمیسیوں سے متعدد برانڈ دستیاب ہیں۔

شدید علامات کا علاج

کبھی کبھار جب دیگر علاج غیر مؤثر ہو جائیں، تو اسٹیرائڈ کی گولیوں کا ایک چھوٹا سا کورس تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا کورس عام طور پر محفوظ ہو تا ہے، تاہم ہے فیور کا علاج کرنے کے لیے آپ کو اسٹیرائڈ کی گولیاں لمبےعرصے کے لیے نہیں لینی چاہئیں کیونکہ خطرناک ضمنی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

دمہ اور ہے فیور

اگر ہے فیور کے موسم کے دوران آپ میں دمہ کی علامات پیدا ہو جائیں، تو آپ کو ایک inhaler (’انہیلر یعنی سانس میں آسانی پیدا کرنے کی دوا کا آلہ‘) تجویز کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو پہلے ہی دمہ ہو تو ہے فیور کے موسم میں آپ کا دمہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ آپ کو اپنے معمول کے انہیلر (یا دمہ کی دوسری دوا جو آپ لیتے ہیں) کی خوراک میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف یارک میں پہلی مرتبہ داخل ہونے والےطلباء کے لیے مامونیت (immunization) کے بارے میں مفید معلومات

گردن توڑ بخار۔ سی (Meningitis C)

یہ ضروری ہے کہ آپ اس ممکنہ طور پرخطرناک بیماری کی علامات سے آگاہ ہوں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے نزدیک میں رہنے والے نوجوان لوگوں کے بڑے گروپوں میں آسانی سے پھیل جاتی ہے، اور اس طرح آپ بالخصوص غیر محفوظ گروپ کا ایک جزو ہیں۔

ابتدائی مرحلوں میں، نشانیاں اور علامات دیگرعام امراض، مثلاً فلو جیسی ہو سکتی ہیں۔ مندرجہ ذیل علامات کے بارے میں خصوصی طور پر دھیان رکھیں اور اپنی جبلت (instincts) پر بھروسہ کریں – اگر آپ کو گردن توڑ بخار یا Septicaemia (’عفونتِ خون‘) کا شبہ ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

• بلند درجۂ حرارت، بخار ممکنہ طور پر ٹھنڈے ہاتھ پاؤں کے ہمراہ • قے اور بعض اوقات اسہال • شدید سر درد • گردن میں تناؤ (ٹھوڑی چھاتی کے ساتھ لگانے سے قاصر) • جوڑوں یا عضلات میں درد، عفونتِ خون کے ساتھ بعض اوقات پیٹ میں مروڑ • تیز روشنی کے لیے ناپسندیدگی • غنودگی • تشنّج کے دورے • آدمی کی سوچ سمجھ گڈمڈ ہو سکتی ہے یا وہ اپنے گرد و نواہ کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو سکتا ہے • جلد پرسرخ دھبے

علامات کسی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتیں اور ہو سکتا ہے بعض علامات ظاہر ہوں ہی نہ۔

اگر آپ کو گردن توڑ بخار (meningitis) کا شبہ ہو، تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

مزید معلومات کے لیے www.meningitis-trust.org ملاحظہ کریں۔

25 برس سے کم عمر کے تمام طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گردن توڑ بخار کے خلاف مدافعت استوار کرنے کے لیے گردن توڑ بخار’سی‘ کی مامونیت (immunization) حاصل کرلیں۔ طلباء کو چاہیئے کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر یو کے (برطانیہ) میں اپنی آمد سے قبل یہ حاصل کر لیں۔ یہ مامونیت یونیورسٹی ہیلتھ سنٹر پر دستیاب ہے۔

کیا آپ MUMPS (’کن پھیڑوں‘) کے خلاف مکمل طور پر مامون ہیں ؟ کیا آپ کی عمر 18 اور 25 سال کے درمیان ہے؟

آپ کو مناسب طور پر مامون ہونے کے لیے MMR (measles، mumps اور rubella) کی ویکسین کی دوا کی الگ الگ خوراکوں کی ضرورت ہے۔ یو کے کی یونیورسٹیوں میں آپ کی عمر کے گروپ میں حال ہی میں Mumps کی بیماری پھوٹ پڑی تھی کیونکہ عمر کے اس گروپ کے طلباء کو مکمل طور پر مامون نہیں کیا گیا ہے۔

Mumps وائرس سے ہونے والی ایک شدید بیماری ہے جو بخار، سر درد اور غدودوں/گلپھڑوں میں سوجن اور درد پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک شخص سے دوسرے شخص تک کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ تھوک کے ذریعے براہ راست رابطے سے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔

یہ وائرل گردن توڑ بخار(viral meningitis) اور مستقل بہرا پن پیدا کر سکتی ہے۔ Mumps کی کافی شاذو نادر وقوع پذیر ہونے والی، لیکن انتہائی تکلیف دہ پیچیدگی لبلبے (pancreas) اور، بیضہ دانی (overies) اور خصیوں (testicles) میں سوجن ہے۔

Mumps سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ MMR کی دوا کی دو الگ الگ ویکسین لگوانا ہے۔ اگر آپ کو یہ علم نہ ہو کہ آپ نے پہلے MMR کا ٹیکہ لگوایا ہے یا نہیں، تو ایک یا دو سے زائد خوراکیں لینے سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔

مثالی حالت میں آپ کو دونوں ویکسین یونیورسٹی میں اپنی آمد سے قبل لگوانی چاہئیں کیونکہ اس سے یہ یقینی ہو جائے گا کہ آپ نے mumps کا سامنا کرنے کے اندیشے سے پیشتر ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ حفاظت حاصل کر لی ہے۔ آپ کو یہ ویکسین تین ماہ کے وقفے سے لگوانی چاہیئے۔

اگر آپ یونیورسٹی میں آمد سے قبل اپنی ویکسین میں سے ایک یا کوئی بھی نہیں لگوا سکے ہیں تو آپ کے لیے اس کا بندوبست کیا جا سکتا ہے لیکن آپ کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ آپ کے mumps میں مبتلا ہونے کا خطرہ اس وقت تک زیادہ ہو گا جب تک کہ آپ اس کی دوسری خوراک نہ حاصل کر لیں۔

مزید معلومات www.mmrthefacts.nhs.uk پر دستیاب ہیں۔

ہنگامی ممانعتِ حمل

یونیورسٹی ہیلتھ سنٹر پر ممانعتِ حمل (contraception) کے بارے میں مشاورت اور نسخوں کے لیے نرس کے ساتھ اپوائنٹمنٹس سوموار/پیر سے جمعے تک دستیاب ہوتی ہیں۔ اس طرح کی کسی ایک اپوائنٹمنٹ کے موقع پرآپ کو مفت کانڈوم بھی پیش کئےجائیں گے۔

اگر آپ کو ہنگامی طور پر ممانعتِ حمل درکار ہو، تو یہ ضروری ہے کہ آپ جتنی جلد ممکن ہو سکے ہیلتھ سنٹر میں نرس کے ساتھ اپوائنٹمنٹ طے کر لیں تا کہ آپ کے پاس انتخاب کے لیے زیادہ سے زیادہ طریقے دستیاب ہوں۔ "اگلے دن کی صبح والی گولی" غیر محفوظ جنسی عمل کے 72 گھنٹے بعد تک کام کرے گی لیکن آپ جتنی جلد اسے لیں گی، یہ اتنی ہی زیادہ مؤثر ہو گی۔ IUD ایک اور آلہ ہے اور اسے غیر محفوظ جنسی عمل کے 5 دن بعد تک رکھا جا سکتا ہے۔ ہنگامی ممانعتِ حمل کے لیے مشاورت حاصل کرنے کے لیے دیگر جگہیں بھی مدد کے لیے موجود ہیں، براہ مہربانی معلومات کے لیے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے نیچے دئے گئے ربط پر کلک کریں۔

ممانعت حمل اور آپ کو دستیاب طریقوں کے بارے میں بہت سے مشورے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے براہ مہربانی www.fpa.org.uk ملاحظہ کریں۔

شراب (الکحل)

الکحل اور اس کے آپ کی صحت پر اثرات کے بارے میں بہت سی مفید معلومات حاصل کرنے کے لیے www.drinkaware.co.uk ملاحظہ کریں۔

سگرٹ نوشی

ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگرٹ نوشی نہ صرف پھیپھڑوں کا کینسر پیدا کرتی ہے بلکہ دیگر خطرناک امراض اور عوارض کا باعث بھی بنتی ہے جن میں سے کئی ایک مہلک ہوتے ہیں۔ اگر آپ ایک سگرٹ نوش ہیں، تو ہم آپ کو اس عادت کو چھوڑنے کے سلسلے میں مدد کر سکتے ہیں۔ سیگرٹ نوشی ترک کرنے سے متعلق مشورہ کرنے کی معلومات کے لیے ہیلتھ سنٹر سے رابطہ کریں۔

مزید معلومات www.ash.org.uk سے حاصل کریں۔

سیلبی (Selby) اور یارک ہیلتھ کمیونٹی کے درمیان معلومات میں شراکت

آپ کا ڈاکٹر، اور آپ کی نگہداشت کرنے والے دیگر پیشہ ور ماہرینِ صحت، آپ کی صحت اور اس پریکٹس پرآپ کے کیے گئے علاج کے بارے میں ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس ریکارڈ کو ہماری پریکٹس کے کمپیوٹر سسٹم پر محفوظ طور پر رکھا جاتا ہے۔

آپ کو درکار نگہداشتِ صحت فراہم کرنے کی خاطر جہاں ضروری ہوا، آپ کا ڈاکٹر آپ کے علاج میں شامل دیگر افراد، جیسے ہسپتال کے مشیر (کنسلٹینٹس)، کو آپ سے متعلق معلومات میں شریک کرے گا۔

آج کل انفارمیش ٹیکنالوجی کے فروغ نے اس شرکت کو سہل تر اور تیز تر بنا دیا ہے۔ مقامی ہسپتالوں اور GP پریکٹسوں کے مابین ٹیسٹوں کے نتائج، حوالہ جات اور ڈسچارج کے بارے میں خط و کتابت کی محفوظ الیکٹرونک منتقلی کے انتظامات پہلے ہی زیرعمل ہیں۔

سیلبی اور یارک ہیلتھ کمیونیٹی، کے اندرونِ خانہ ڈاکٹر اپنے مریض کی صحت سے متعلق اضافی معلومات حاصل کرنے کی خاطر کمپیوٹر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ کے علاج کے دوران ضروری ہو، تو آپ کا GP آپ کے ہسپتال، ذہنی صحت اور کمیونیٹی ہیلتھ ریکارڈ کے خلاصے کو دیکھ سکتا ہے، اور آپ کو ہسپتال اورغیر از اوقات کار خدمت میں نگہداشت مہیا کرنے والے ڈاکٹر بھی آپ کے GP ریکارڈ کے خلاصے کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

یہ رسائی شدید حفاظتی کنٹرول کے ساتھ مشروط ہے اور رازداری کے پیشہ ورانہ فرض کے تحت، آپ کو ممکنہ طور پر بہترین نگہداشت فراہم کرنے کے مفاد میں، فقط آپ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو ہی دستیاب ہے۔ تاہم، اگر آپ کو اپنے ڈاکٹر کے اپنے ہسپتال کے ریکارڈ کے خلاصے کو دیکھنے کے بارے میں کوئی تفکرات ہوں، تو براہ مہربانی ہمارے علم میں لائیں۔

Sub-Navigation

Find Local Pharmacies

map-image

Reach Us...

Wenlock Terrace
Tel: 01904 646861
Hull Road
Tel: 01904 410294
University Health Centre
Tel: 01904 721820